یادوں کی تعمیر : تمام جھوٹوں کی ماں - اسماء المدیر

اسماء المدیر کی فلم دی مدر آف آل لائز( تمام  جھوٹوں  کی ماں)(۲۰۲۳) ، جوکہ حال ہی میں ۱۲ویں دھرم شالا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی ،  خاندانی یادوں کےوسیلے سے،  بھولنے اور بھلانے  کی مختلف صورتوں کا سامنا کرتی  ہے۔ ہدایت کارہ کا سفر ایک معمے  سے شروع ہوتا ہے: ان کے بچپن کی ایک اکلوتی علامت صرف ایک تصویر ہے۔ بارہ برس کی عمر میں فلم ساز نے اپنی ماں سے اپنے بچپن کی تصاویر طلب کیں، تو ماں نے بچوں کے ایک گروہ کی تصویر پیش کی جس میں سب کیمرے کی طرف مسکرا رہے تھے۔ المدیر کو بتایا گیا کہ وہ  پس منظر میں کھڑی ایک بچی ہیں، مگرانہیں اس بات پر یقین نہیں ہوتا۔ مراکش کے ایک مادر سری گھرانے میں پرورش پانےوالی المدیر کی زندگی ان کی سخت گیردادی، حجدہ، کے زیرِ تسلط تھی۔ دادی کے نزدیک تصاویر بنوانا حرام تھا، اس لیے گھر میں تصویروں کی اجازت نہ تھی۔ بغاوت، اور شاید تلافی کےجذبے کے تحت، المدیر چپکے سے گھر سے نکل کر  اپنی تصویرکھنچواتی ہیں۔ سفید لباس پہنے، ماتھے پر ٹوتھ پیسٹ کے تین نقطےسجائےجیسا کہ انہوں نے ہندوستانی لڑکیوں کی تصاویر میں دیکھا تھا—بارہ سالہ اسماء ایک فوٹو اسٹوڈیو میں ہوائی مناظر کےپس منظر کے سامنے تصویر کھنچواتی ہیں۔ جیسا کہ پس منظر میں سنائی دینےوالی آواز کہتی ہے " جس کے پاس ہوائی کےسامنے کھینچی گئی  تصویر نہ ہو،وہ یادیں رکھنے کا داوا نہیں کر سکتا ۔" المدیر کو بعد میں پتا چلتا  ہے کہ بچوں کی وہ تصویر جو اس کی ماں نے کھائی تھی، دراصل ان کی تھی ہی نہیں۔اور  یہی جھوٹ  ایک بنیادی ساخت بن جاتا ہےتمام جھوٹوں کی ماں۔تصویری دستاویزات کی عدم موجودگی سے آگے بڑھنے اور یادداشت کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کودوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں، ہدایت کارہ اور ان کے والد اپنے پرانے محلے کا ایک چھوٹا  نمونہ تیار کرتے ہیں، جس میں خاندان اور پڑوسیوں کی نمائندگی کے لیے چھوٹے مجسمے بنائے جاتے ہیں۔

یہ مختصر نمونہ ایک حیرت انگیز  اور نہایت مہارت اور باریک بینی سے تخلیق کی گئی دنیا ہے، یہاں تک کہ اس میں بجلی بھی کام کرتی ہے۔ المدیر کےوالد یہ مجسمے تراشتے ہیں اور ہدایت کارہ کے ساتھ اس منصوبے میں شریک ہوتے ہیں کہ ایک ایسی جگہ تعمیر کی جا سکے"جہاں ہماری یادیں اور ان کے بول آزاد ہو سکیں"۔ان کی والدہ بھی اس کام میں شریک ہوتی ہیں ،وہ ان مجسماتی گھروں اور کرداروں کے لیے کپڑے اور مختلف اشیا تیار کرتی ہیں۔ اس پورے عمل کی مادی حیثیت  مسلسل احساس دلاتی ہے، جب والد مٹی سے کام کرتے ہیں یا المدیر کے مجسمے میں شامل کرنے کے لیے ان کے کچھ بال کاٹتے ہیں۔اس دنیا کی تعمیر خود فلم سازی کے عمل کا حصہ بن جاتی ہے، جو افراد کی شخصیتوں کو آشکار کرتی ہے اور ناظر کو خاندان کےقریب لے آتی ہے۔جب حجدہ اپنےمجسماتی عکس سے روبرو ہوتی ہیں تو ان کا فطری جواب یہ ہے کہ وہ شکایت کرتی ہیں کہ انہیں بدصورت دکھایا گیا ہے۔ گھر میں جس واحد تصویر کی اجازت تھی، وہ مراکش کے بادشاہ حسن دوم کی تصویر تھی، جنہوں نے۱۹۶۱سے ۱۹۹۹تک حکومت کی، اور جسے دادی عقیدت سے بوس دیا کرتی تھیں۔ المدیر اپنی دادی کے گھریلو آمرانہ نظام اورحسن دوم کے دورِ حکومت، جسے سنوات الرصاص(سیسوں کے سال) کہا جاتا ہے، کے درمیان مماثلت قائم کرتی ہیں۔ یوں خاندانی تعلقات اور فوٹوگرافی کی جستجو سے آغاز ہونے والی یہ فلم نہایت مہارت سے تاریخی تناؤ اور اجتماعی صدمے کی داستان میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

ہدایت کارہ کے بچپن کے محلے کی اس ازسرِ نو تعمیر کا مقصد ۱۹۸۱ کی اس خوفناک رات کو دوبارہ زندہ کرنا ہے جب کاسابلانکا میں روٹی کے فسادات برپا ہوئے تھے۔ ۲۰ جون کو آٹے اور دیگر بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرنےوالوں پر گولیاں چلائی گئیں، جبکہ اگلے دن کئی افراد کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گا۔ المدیر کے پڑوسیوں سمیت بے شمار لوگ گرفتار ہوئے۔ اس واقعے پر گفتگو کو عوامی اور نجی دونوں سطحوں پر خاموشی کے پردے میں رکھا گیا، جیسا کہ المدیر کے اپنے خاندان میں۔ المدیر کے محلے کی سڑک پر ہونےوالے قتلِ عام کی صرف ایک تصویر موجود ہے، جس میں مقتولین کی لاشیں اجتماعی قبروں میں دفن کی جا رہی ہیں۔انہی داستانوں میں ایک ان کی پڑوسن ملیکہ کی بہن فاطمہ کی ہے، جو احتجاج کےدوران گولی لگنے سے ہلاک ہو گئی تھیں۔ فاطمہ کی صرف ایک تصویر باقی ہے“ایک ایسی یاد، جس کا جسم نہیں”—جو حال کے منظر  کومسلسل پریشان کرتی رہتی ہے، جب لوگ ماضی کے مظالم کے بارے میں جواب طلب کرتے ہیں۔ ایک اور مؤثر منظر میں ان کے پڑوسی سعید اس رات کے بعد کے حالات بیان کرتے ہیں، جب لوگوں کو گھروں سے اٹھا کر پولیس تھانے لے کر  جایا جا رہا تھا۔ خاندان اور پڑوسی موجودہ لمحے میں اس گواہی کے سامع اور شاہد بنتے ہیں۔

یوں یہ فلم خاندان کی طرف واپس لوٹتی ہےبطورِ ایک ایسی جگہ جہاں سوگ، شفا اور تطہیرِ نفس کے ذریعے اجتماعی فراموشی، مٹائے جانے اور بھلانے  کا سامنا کیا جا سکے۔ یہاں مٹی سے تخلیق کردہ یہ مختصر دنیا شرکا کے لیے ایک مختلفحسی تجربہ پیدا کرتی ہے۔ ادائیگی اور بازنمائی کے ذریعے یہ ایک ایسی یادگار سازی ک ممکن بناتی ہے جو خاموشیوں کے جبر اوردستاویزی فقدان کے باوجود ماضی کو آواز دےسکتی ہے اور ایک نئی یادگار کے طرز کو جگاتی ہے۔ جب یادوں کو دوبارہ دہرایااور جیا جاتا ہے تو یہ صورت ایک آزاد کن اظہار میں بدل جاتی ہےجو ذاتی اور ریاستی جبر کی پُرتشدد تاریخوں کے گھٹن زدہ سکوت کو چیر سکتی ہے۔ یادداشتوں کی یہ قیاسی تعمیر ہدایت کارہ کو فرد سے اجتماع، اور مختصر سے عظیم پیمانے تک بآسانی سفرکرنے کی اجازت دیتی ہے۔یہ ہمیں پیمانے کے تصور پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے، جہاں خاندان پورے ملک کی نمائندگی کرتا ہے، جو حال میں رہتے ہوئے ماضی سے نبرد آزما ہے۔ اسماء المدیر کی یہ فلم  خاندان کے اپنی  تاریخ سے مصالحت کرتےہوئے اپنے ہی جہان کو بنانے اور بگڑنے کے عمل میں  معصومیت  اور فنکارانہ جرات کے ذریعے نمائندگی اور مٹائے جانے کے تصورات کا مقابلہ کرتی  ہے۔

تمام تصاویر تمام جھوٹوں کی ماں( دی مدر آف آل لائز) (2023) کی ہیں جس کی ہدایت کارہ اسماء المعدیر ہیں۔ تصاویر بشکریہ ہدایت کارہ اور دھرم شالہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول۔ کاپی رائٹ انسائٹ فلمس ۔